مشاعرے کی صدارت خاصا مشکل کام ہے. مشکل اس لیے کہ صدر کو ایک مخصوص جگہ پر بندھ کر بیٹھنا پڑتا ہے اور اُس وقت تک بیٹھنا پڑتا ہے جب تک مشاعرہ اختتام کو نہ پہنچ جائے۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ منتظمین جلسہ صدر گرامی قدر کو مسند پر بٹھا کر ایسے بھول جاتے ہیں کہ نہ صرف خاطر تواضع سے بلکہ مہمان نوازی کی رسم دنیا سے بھی بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ یہ تو صدارت کا ایک پہلو ہوا ۔ اب دوسرا پہلو بھی ملاحظہ فرمائیے۔ صدر گرامی قدر کو بے کم و کاست، ہر شعر توجہ سے سننا پڑتا ہے اور جب شاعر عزیز اپنے جگر پارے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ترنم یا بے ترنم پیش کرتا ہے تو لحاظ کی آنکھ جہاز پر بھاری کے مصداق دل کھول کر داد بھی دینی پڑتی ہے۔
بہر حال به تو جناب صدر کا مسئلہ ہے جہاں تک مشاعرے کا تعلق ہے، مشاعرہ ایک ایسا تہذیبی ادارہ ہے جو صدیوں سے قائم ہے اور آج بھی جب کہ رنگ دنیا بدل گیا ہے، یہ اُسی طرح قائم و دائم ہے۔ مشاعرے ہماری تہذیبی، ذہنی اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔ یہ روایت اتنی قدیم ہے کہ اگر میں اس کی تاریخ اختصار کے ساتھ بھی بیان کرنا شروع کروں تو خود اُردو ادب کی تاریخ کے چھے سو سال سامنے آجائیں گے جس میں حسن شوقی، قلی قطب شاہ اور ولی دکنی سے لے کر سراج الدین علی خاں آرزو، آبرو، ناجی، شاه حاتم، خواجہ میر درد، میر تقی میر اور مرزا رفیع سودا تک اور مصحفی، انشاء اور جرات، ناسخ و آتش و دبیر سے لے کر غالب و ذوق، مولانا حالی اور محمد حسین آزاد تک سب شامل ہوں گے اور پھر بات یہیں تو ختم نہیں ہو جائے گی۔ اقبال سے لے کر آج تک اس روایت کی داستان سنانی ہوگی۔ ایسی داستان جو دل چسپ بھی ہو اور دل آویز بھی، جس میں روایت کے سارے گوشے سامنے آجائیں۔ یہ موضوع اتنا وسیع ہے اور اپنے اندر ایسے دلچسپ پہلو رکھتا ہے کہ جتنا اس پر سوچتا ہوں اُتنا ہی مورخ کا ذہن زمانہ حال سے ماضی کی طرف سفر کرنے لگتا ہے جہاں میٹھے تیل کے چراغ کی لَو سے راستہ صاف اور روشن نظر آ رہا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ میں اسے بیان کروں، لیکن پھر سوچتا ہوں کہ یہ بات بذات خود مشاعرے کی روایت کے منافی ہوگی کہ مشاعرے میں کسی موضوع پر لیکچر دیا جائے، اس لیے میں مشاعرے کے تعلق سے صرف اتنا کہوں گا کہ اچھے اشعار ہمارے جذبات کی اس طور پر ترجمانی کرتے ہیں کہ شعر سن کر زندگی کا بوجھ ہلکا اور ذہن ایسا تازہ دم ہو جاتا ہے جیسے ہم نے ابھی ابھی غسل کیا ہو۔ اچھا شعر ہمارے ذہن کو نہلا دھلا کر پھول کی طرح تازہ کر دیتا ہے یہ کیفیت ہر دوسری کیفیت سے الگ ہے۔ اگر آپ کو یہ دیکھنا ہو کہ اس وقت معاشرے کے باطن میں کیا ہو رہا ہے تو آپ کسی مشاعرے میں اشعار سن کر دیکھ لیجیے اور اگر یہ دیکھنا ہو کہ اس وقت اہلِ معاشرہ کسی کیفیت سے دوچار ہیں، ہوائیں کس رخ پر چل رہی ہیں تو کسی مشاعرے میں یہ دیکھ لیجیے کہ تکنے والے کس قسم کے اشعار پر داد دے رہے ہیں۔
مشاعره مرغ باد شمال کا درجہ رکھتا ہے جس سے معاشرے کے باطن کی ہواؤں کے رخ کا انداز ہو جاتا ہے۔ پھر مشاعرے ایک ایسی ذہنی تفریح کا درجہ رکھتے ہیں جس میں ذہن کو پورے طور پر استعمال کرنا پڑتا ہے ورنہ عام طور پر جدید تفریحات میں دماغ کا استعمال کم سے کم تر ہو گیا ہے ، مثلاً آپ سب ہر روز ٹیلی ویژن دیکھتے ہیں، مگر کبھی آپ نے غور کیا کہ اس میں دماغ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی ہے، بس آنکھوں سے دیکھتے رہیے، کانوں سے سنتے رہیے، باقی کام خود بخود ہوتا رہتا ہے۔ مشاعرے میں آپ کو نہ صرف
دماغ سے بلکہ اپنے سارے وجود کے ساتھ شریک ہونا پڑتا ہے۔ اس کے بغیر آپ مشاعرے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے اور اسی لیے مشاعرے میں اچھے اشعار سن کر آپ کی ذہنی صحت بہتر ہو جاتی ہے۔ پھر مشاعروں میں اکثر ایسے دل چسپ واقعات بھی پیش آتے ہیں جوبساری عمر کے لیے آپ کے حافظے میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ مجھے یاد آیا اور آپ بھی اس واقعے سے لطف اندوز ہوں گے کہ لڑکیوں کے کسی کالج میں ایک مشاعرہ ہوا اور ایک اُستاذ الاساتذہ قسم کے شاعر نے بڑے دم خم کے ساتھ اپنی غزل کا یہ مطلع پڑھا۔
ہمارے دل کی حسرت تجھ سے گو اے نازنیں نکلی مگر جیسی نکلنی چاہیے ویسی نہیں نکلی!
استاد کو اس شعر پر خاصی داد ملی۔ داد کا سلسلہ ختم ہوا تو ایک طالبہ کھڑی ہوئی اور استاذ الاساتذہ سے نہایت شیریں آواز اور نیاز مندانہ لہجے میں مخاطب ہو کر کہا " محترم و معظم یہ مطلع خوب ہے بلکہ بہت خوب ہے، لیکن یہ تو بتائیے کہ اس میں بے چاری نازنین کا کیا قصور تھا" یہ جملہ سننا تھا کہ سارا پنڈال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ وہ تو غنیمت جانئے کہ آزادی نسواں کی تحریک کا زمانہ نہیں تھا ورنہ اگر یہ شعر آج پڑھا جاتا اور خواتین کی سمجھ میں کہیں اس طالبہ کی طرح یہ آجاتا کہ اس نازنین پر شاعر نے کتنا ظلم ڈھایا ہے تو وہ اس خیالی نازنین کی حمایت میں جلوس نکالتیں اور مردوں کے خلاف ایسے نعرے بلند کرتیں کہ آسمان کا اپنی جگہ ٹھہرنا مشکل ہو جاتا۔ بہر حال اچھا زمانہ تھا، خیریت سے گذر گیا۔ مجھے یاد آیا کہ ۱۹۴۵ء میں میرٹھ میں ایک انتہائی عظیم الشان مشاعرہ ہوا میں اُس وقت انٹر کا طالب علم تھا۔ اتنا بڑا مشاعرہ میں نے اپنی زندگی میں آج تک نہیں دیکھا،
برعظیم کے کم و بیش سارے نامور شاعر شریک تھے سوائے حفیظ جالندھری کے کہ وہ ہندوستانی سپاہیوں میں مردانگی پیدا کر کے روزی کمار ہے تھے اور انا پرست بیگانہ چنگیری نے یہ کہہ کر آنے سے انکار کر دیا تھا کہ میں جگر سے بڑا شاعر ہوں مجھے جگر سے زیادہ معاوضہ ملنا چاہیے۔ مشاعرہ دو دن چلا۔ اس میں جوش بھی شریک تھے اور جگر بھی، جب حضرت جوش کی باری آئی تو رات کی سیاہی صبح کی سفیدی سے ملنے پر مائل ہو رہی تھی۔ جوش نے رباعیاں سنانی شروع کیں۔ وہ ایک رباعی سناتے، پھر ایک پان کھاتے، اگالدان میں پیک کرتے اور پھر ایک رباعی سناتے۔ اس طرح اُنھوں نے دس بارہ رباعیاں سنائیں اور پھر کہا کہ بس اب ختم۔ لوگوں نے اصرار کیا، انھوں نے پھر پان کھایا اگالدان میں پیک کی اور پھر ایک رباعی سُنادی ۔ دو چار رباعیاں اسی طرح سنا کر انھوں نے کہا " بس اب بہت ہو چکا۔ کچھ دیر پنڈال میں خاموشی رہی۔ اسی اثناء میں پیچھے کی صفوں سے ایک پہلوان نما گھوسی، کندھے پر بنیان ڈالے، کھڑا ہوا اور بآواز بلند کہا (حضرت جوش کا جُثہ ذہن میں رکھیے ) "پہلوان ! ایک اور ہوگی، تھوک کے " اس جملے کا سننا تھا کہ پنڈال قہقہوں سے گونج اُٹھا اور انہی قہقہوں میں مشاعرہ ختم ہو گیا۔ جوش کی بات چلی ہے اور وہ اب مرحوم بھی ہو گئے ہیں تو ایک بات اور سن لیجیے۔ جوش صاحب نے مجھے، مولانا اعجاز الحق قدوسی اور پیر حسام الدین راشدی کو گھر پر بلایا۔ ہم پہنچے تو وہ منتظر تھے، کہیں باہر سے آئے تھے۔ کچھ دیر بعد ہم میں سے کسی نے کہا کہ حضرت! اپنی وہ تازہ نظم " بول اک تارے چھن چھن چھن" سنا دیجیے۔ جوش صاحب نے آواز دی "ذرا بیگ بھیج دو۔ اندر سے جواب میں آواز آئی ۔
"ابھی تو چیخ کر آ رہے ہو، اب پھر شروع کر دیا", یہ ان کی بیگم کی آواز تھی۔ اب رات کافی بھیگ چکی ہے اقر شاعرانِ کرام کیفیت میں اس درجہ سرشار ہیں کہ اب میرا مزید کچھ کہنا مصلحت وقت کے خلاف ہے۔ آپ کو متوجہ کرنے اور شاعرانہ کیفیت سے دو چار کرنے کا کام میں نے خطبہ صدارت سے اُسی طرح کر دیا ہے جس طرح شیکسپیئر، اپنے ڈرامے کے پہلے ایکٹ کے پہلے سین میں کرتا تھا۔ اب میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس محفل شعر و سخن میں شریک ہونے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں جس کے لیے آپ یہاں تشریف لائے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ سب شعر کا اچھا ذوق رکھتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ مشاعرے کے آداب اور اس کی روایت سے واقف ہیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آپ سب نہ صرف مہمان نواز ہیں بلکہ شاعروں سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ جب ایسی محفل ہو تو خطبہ صدارت کو یہیں ختم ہو جانا چاہیے۔ اور دیکھیے جیسے ہی یہ بات میں نے آپ سے کہی غالب کا شعر دریچے سے جھانکنے لگا، آپ بھی سن لیجیے۔
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشک فارسی
گفتہ غالب ایک بار پڑھ کے اُسے سنا کہ یوں
جنوری ۶۱۹۸۷
تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی